Uncategorizedاسٹاک اینڈ کوموڈیٹیزٹریڈ اینڈ انڈسٹریسیکٹورل
تازہ ترین

سمت درست رہی تو اٹھارہ ماہ میں اپنے اہداف کے قریب پہنچ جائیں گے :عقیل کریم ڈھیڈھی

ملک میں پیسہ واپس لانے کیلئے حکومت ایمنسٹی کا ایک موقع دے، 600 ارب کے جی ڈی پی اہداف با آسانی حاصل ہوسکتے ہیں، چیرمین اے کے ڈی گروپ

ملک کے طول و ارض میں خصوصا” تمام تاجر طبقوں میں نمایاں مقام رکھنے والے صنعتکار، تاجر اور سینئر اسٹاک بروکر عقیل کریم ڈھیڈھی بلا حیل و حجت جب بھی کہتے ہیں ببانگ دھل کہتے ہیں۔ حکومت کے اقدامات پر تعریف کے ساتھ انہوں نے ابتدائی خامیوں کی بھی نشاندہی کردی ہے۔

عقیل کریم ڈھیڈھی۔۔ابتدائی رابطوں کا خلاء تھا جس کی وجہ سے بے چینی نظر آرہی تھی۔ حکومت نے جنگی بنیادوں پر جو اقدامات کئے ہیں یا کرنے جارہی ہے، اس سے ہماری برآمدات میں اضافہ اور دوسری جانب درآمدات میں کمی سے تجارتی توازن بہتر کرنے میں مدد ملے گی۔

"ماضی کی غلط اور من چاہی پالیسیوں نے ملک کی معاشی صورتحال ابتر کردی”

عقیل کریم ڈھیڈھی: میری نظر میں حکومت کی کوتاہی ہے کہ انہوں نے اسٹیک ہولڈرز سے رابطے نہیں کئے جس کے نتیجے میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی۔ ہم نے 2013 میں ڈھائی ارب ڈالر کے قرضے لئے جبکہ 2014 سے 2017 کے درمیان ہر سال 10 ارب ڈالر لئے گئے ۔ پاکستان ان بھاری بھرکم قرضوں کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ ماضی کی غلط اور من چاہی پالیسیوں نے ملک کی معاشی صورتحال ابتر کردی ۔

عقیل کریم ڈھیڈھی: اگر 20 ارب ڈالر کی ترسیلات کے باوجود کرنٹ اکاونٹ خسارے کا کم نہ ہونا ملک کے لئے بدقسمتی کی بات ہے اور دکھ کی بات ہے کہ ہمارے اکنامک مینجر کر کیا رہے ہیں۔ ہمارے پاس حکومتی وزراء رسمی تبادلہ خیال کے لئے آتے ہیں


"20 ارب ڈالر کی ترسیلات کے باوجود کرنٹ اکاونٹ خسارے کا کم نہ ہونا ملک کے لئے بدقسمتی کی بات ہے”

عقیل کریم ڈھیڈھی: میں نے گزشتہ تیس برس کے دوران ایسا وزیر خزانہ نہیں دیکھا جس نے ملک کو بحران کی دلدل سے نکالنے کے لئے ایمانداری سے کوشش کی ہو لیکن اسد عمر معاشی دگرگوں صورتحال سے نکلنے کیلئے تمام لوگوں سے مل کر ان کی رائے لے رہے ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ ملک کیلئے سنجیدہ سوچ اپنائی جارہی ہے۔


” مجھے خوشی ہے کہ ملک کیلئے سنجیدہ سوچ اپنائی جارہی ہے”

عقیل کریم ڈھیڈھی: اسٹاک ایکسچینج میں ہونے والا اجلاس رسمی نہیں تھا۔ وزیر خزانہ اسد عمر نے معاشی اعشاریوں کی بہتری کیلئے ہر اہم نکتے پر بات کی۔ ماضی میں وزراء سے جتنی بھی ملاقاتیں ہوئیں میری نظر میں اسٹاک ایکسچینج میں ہونے والا اجلاس بامقصد تھا۔

” اسٹاک ایکسچینج میں ہونے والا اجلاس بامقصد تھا”

عقیل کریم ڈھیڈھی: حکومتی یقین دہانیوں سے ہٹ کر اس امر پر بزنس کمیونٹی کو اب اس بات کا یقین ہوچلا ہے کہ موجودہ حکومت معاشی استحکام کیلئے سنجیدہ اور اس کی سمت درست ہے۔ کراچی میں اسد عمر سے بینکرز، اسٹاک بروکرز اور بعدازاں تاجر برادری سے ملاقاتوں میں ایک نکتہ مشترک ہے کہ حکومت کو مشکل وقت سے نکالنے کے لئے بزنس کمیونٹی ایک پیج پر آچکی ہے۔

” حکومت کو مشکل وقت سے نکالنے کے لئے بزنس کمیونٹی ایک پیج پر آچکی ہے”

عقیل کریم ڈھیڈھی: حکومت نے ترقیاتی بجٹ میں کمی کیلئے درست قدم اٹھایا ہے۔ اگر وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ پاکستان تین سال میں معاشی پیچیدگیوں سے نکل آئے گا تو میرے خیال میں ہم چھے سہہ ماہیوں میں اپنے اہداف کے قریب پہنچ جائیں گے۔ ان ڈوکیومنٹڈ اکاؤنٹس اب پکڑے جارہے ہیں۔

” میرے خیال میں ہم چھے سہہ ماہیوں میں اپنے اہداف کے قریب پہنچ جائیں گے”

عقیل کریم ڈھیڈھی: جی ڈی پی پر پاکستان کی اکانومی کا سائز 600 ارب ڈالر ہے لیکن درحقیقت موجودہ وقت اس کا سائز 322 ارب ڈالر ہے اور حکومت اس ہدف کو با آسانی حاصل کرسکتی ہے۔ ایف آئی اے کسی کو تنگ نہیں کررہی، صرف شواہد حاصل کئے جارہے ہیں۔

عقیل کریم ڈھیڈھی: حکومت کے لئے ایک اچھا موقع ہے کہ جن لوگوں نے ایمنسٹی اسکیم حاصل نہیں کی انہیں ایک موقع دیا جائے کہ جو رقوم انہوں نے درست انداز میں ہی کیوں نہ بھیجی ہوں انہیں ڈیکلئر کریں اور حکومت انہیں اپنا پیسہ ملک میں لانے کی ضمانت دے۔

” ایمنسٹی کا ایک موقع دیا جائے تاکہ ملک میں پیسہ واپس آسکے”


” رئیل اسٹیٹ کی بجائے تعمیراتی شعبے کوترجیحی بنیادوں پر سپورٹ کرے جس سے لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ ہے”

عقیل کریم ڈھیڈھی: حکومت ایسی پالیسی نہ بنائے جس سے صرف چند لوگوں کو فائدہ ہو۔ ہم نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ رئیل اسٹیٹ کی بجائے تعمیراتی شعبے کوترجیحی بنیادوں پر سپورٹ کرے جس سے لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ ہے۔ حکومت نے اس مسئلے کے حل کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ٹیگس

Zubair Yaqoob

The author has diversified experience in business reporting. He is senior editor at www.pkrevenue.com. He can be reached at [email protected]

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Alert: Content is protected !!
Close