ٹیکسیشن

ایف بی آر نے گوشوارے جمع کرانے والے افراد اور کمپنیوں کے لئے راہنماء ہدایات جاری کردیں

کراچی: فیڈرل بورڈآف ریوینیو ( ایف بی آر) نے ان افراد اور کمپنیوں کی نشاندہی کردے ہے جہیں ٹیکس سال برائے 2018 کے لئے انکم ٹیکس گوشورے جمع کرانے لازمی ہونگے۔

ایف بی آر نے اس سلسلے میں گوشوارے اور اثاثوں کی ڈیکلئیریشن جمع کرانے کے لئے فارمز جاری کردیئے ہیں۔ ان فارمز میں ظاہر کردہ افراد اور کمپنیز کے لئے ہدایات بھی درج ہیں

ایف بی آر کے مطابق درج ذیل افراد افراد اور کمپنی کو آمدن اور اثاثوں کی تفصیلات جمع کرانا لازمی ہونگی:

# ہر وہ کمپنی جو ایس ای سی پی سے رجسٹرڈ ہو

# ہر وہ فرد جس کی آمدنی 4 لاکھ روپے سے زائد ہو

# انکم ٹیکس آرڈینینس 2001 کے سیکشن 2 کے کلاز 36 کے مطابق ہرغیر منافع بخشن آرگنائزیشن ہو

# سیکنڈ شیڈول کے حصہ 1 کے کلاز 58 کے تحت ہر فلاحی ادارہ ہو

# ہر وہ شخص جس نے گزشتہ دو سال میں ٹیکس ادا کیا ہو

# ہر وہ شخص جس نے ایک ٹیکس سال نقصان کو اگلے سال منتقل کیا ہو

# ہر وہ فرد جو 250 مربع گز یا اس سے زائد کی غیر منقولہ جائیداد یافلیٹ کا مالک ہو جو میونسپلٹی میں آتا ہو

# ہر وہ فرد جس کے پاس 500 مربع گز یا اس سے زائد کی غیر منقولہ جائیداد ریٹنگ ایریا میں ہو

# ہر وہ فرد جو 2000 مربع گز کے فلیٹ جو کہ ریٹنغ ایریا میں واقع، اس کا مالک ہو

# ہر وہ فرد جو 1000 سی سی انجن پاور کار کا مالک ہو

# ہر وہ فرد جس نے نیشنل ٹیکس نمبر (این ٹی این) حاصل کیا ہو

# ہر وہ فرد جس نے تجارتی یا صنعتی یوٹیلیٹی کنکشن حاصل کیا ہو اور جس کا سالانہ بل 5 لاکھ روپے سے زائد ہو

# ہر وہ فرد جو کسی چیمبر، ایسوسی ایشن، مارکیٹ کمیٹی، پاکستان انجینئرنگ کونسل، ڈینٹل کونسل، پاکستان بار ایسوسی ایشن، پروونشل بار چونسل، آئی کیپ، آئی سی ایم اے پی سے منسلک ہو

# ہر وہ فرد جس کے کاروبار سے ہونے والی آمدنی 3 لاکھ روپے زیادہ ہو

# ہر وہ فرد یا ایسوسی ایشن آف پرسنز ( اے او پیز) جس کی جائیداد سے ہونے والی آمدنی 2 لاکھ روپے سے زیادہ ہو

ٹیگس

Zubair Yaqoob

The author has diversified experience in business reporting. He is senior editor at www.pkrevenue.com. He can be reached at [email protected]

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Alert: Content is protected !!
Close