ٹریڈ اینڈ انڈسٹریٹیکسیشنسیکٹورل
تازہ ترین

7 سے 8 ماہ کے دوران روپے کی قدر 26 سے 27 فیصد کم ہوئی ، اسد عمر

خطرے کی گھنٹی نہیں بج رہی، ایمنسٹی کے باوجود ملک میں کالا دھن موجود ہے۔ پی ایس ایکس اور فیڈریشن ہاؤس سے خطاب

کراچی: وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ خطرے کی گھنٹی نہیں بج رہی، معیشت پر بحران کا جز وقتی دباؤ ہے، اسے دور کرنے کے موثر اقدامات کئے جارہے ہیں۔ 7 سے 8 ماہ کے دوران روپے کی قدر 26 سے 27 فیصد کم ہوئی ۔ بازار حصص میں استحکام کیلئے سرمایہ کاروں کا اعتماد ضروری ہے۔ ہم آئی ایم ایف کا آخری قرض لینے جارہے ہیں۔ قرض کے لئے آئی ایم ایف کے علاوہ بھی دیگر ممالک سے معاملات طے کریں گے۔ آئی ایم ایف سے قرض کا نہیں کڑی شرائط کا مسئلہ ہے۔ عوام پر مزید بوجھ نہیں ڈالا جاسکتا۔

اسٹاک ایکس چینج میں وزیر خزانہ اسد عمر نے پی ایس ایکس کے چیرمین سلیمان ایس مہدی، قائم مقام چیرمین طاہر محمود، پی ایس ایکس مینجنگ ڈائریکٹر رچرڈ مورین، ایکس چینجک ے سینئر ممبران عقیل کریم ڈھیڈھی، عارف حبیب، احمد چنائے، عادل غفار اور دیگر سے ملاقات کی۔ اس دوران پاکستان اسٹاک ایکس چینج کے مسائل پر بھی بات چیت ہوئی۔

پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں سینئر بروکرز اور بعد ازاں وفاق ایوانہائے صنعت و تجارت میں صنعتکاروں اور تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے تجویز پیش کی کہ رئیل اسٹیٹ شعبے میں بھی اسٹاک مارکیٹ کی طرح انڈیکس قائم کیا جائے۔ اسد عمر نے کہا کہ جاری کھاتوں کا خسارہ 18 ارب ڈالر سے کم ہورہا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ حوالہ ہنڈی کے ذریعے ٹریڈنگ کی جارہی ہے، بیرون ممالک سے رقوم لانے کیلئے قانون بنایا جارہا ہے، ہمارے لئے درآمدات ہے۔

وزیر خزانہ اسدعمرنے ایف پی سی سی آئی کے عہدیداروں سے علیحدہ ملاقات بھی کی۔ فیڈریشن ہاؤس میں سارک چیمبر آف کامرس کے سینئرنائب صدر افتخار علی ملک، فیڈریشن کے صدر غضنفربلور، سینئرنائب صدر سید مظہر علی ناصر، نائب صدورشبنم ظفر، طارق حلیم، زاہد سعید، سیدہ سعیدہ بانو، سینیٹر عبدالحسیب خان،گلزارفیروز، وسیم وہرہ، دانش خان، زکریا عثمان، شوکت احمد، سلیم بکیا، نقی باڑی، اشرف مایا، محمود مولوی، حنیف گوہر، اختیار بیگ، عبدالسمیع خان بھی موجود تھے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ ماضی میں معیشت کے استحکام کے برخلاف اقدامات کئے گئے لیکن موجودہ حکومت نے معاشی بہتری کیلئے تیاری مکمل کرلی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ آٹو ریفنڈ کا ریٹ 35 فیصد کیا گیا ہے جسے مزی بہتر کریں گے۔ اسد عمر نے کہا کہ گیس کی قیمتیں بین الاقوامی سطح کے مطابق ہیں۔

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ خواہشات پر ملک نہیں چلائے جاسکتے۔ اسد عمر نے کہا کہ موجودہ حکومت اپنی مرضی نہیں چلائے گی، ہمارے لئے ہر اسٹیک ہولڈر کی رائے مقدم ہے۔ مسائل کا حل مل کر نکالیں گے۔

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ فی بیرل خام تیل 80 ڈالر سے تجاوز کررہے ہے۔ کیش ڈیپازٹس اور پاکستان کو بین القوامی سرمایہ کاروں کیلئے پرکشش بنانے کیلئے حکومت کٹھن مراحل سے گزررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایمنسٹی کے بعد بھی پاکستان میں کالا دھن موجود ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ہمارے منشور میں معیشت کی بہتری سے ہی فارن پالیسی اچھی ہوگی، معیشت کی ترقی قومی سیکورٹی سے مشروط ہے، ہمارے پاس اچھے اور معیاری سفارتکار موجود ہیں، عبدالرزاق دائو اور شاہ محمود قریشی ملکر کام کررہے ہیں، وزارت خزانہ اور وزارت خارجہ ملکر معیشت کی بہتری اور فارن ریلیشن پر کام کررہے ہیں ہماری کوشش ہے کہ کمرشل قونصلرز سے بہتر انداز میں کام لیا جائے اور ایکسپورٹ بڑھائی جائیں، پہلی سہہ ماہی میں ایکسپورٹ کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر سے کہا کہ نیپرانے فی یونٹ بجلی پر 3 روپے بڑھانے کی سفارش کی جس رد کردیا گیا ہے۔

ٹیگس

Zubair Yaqoob

The author has diversified experience in business reporting. He is senior editor at www.pkrevenue.com. He can be reached at [email protected]

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Alert: Content is protected !!
Close