ٹریڈ اینڈ انڈسٹریسیکٹورل
تازہ ترین

وزات داخلہ کے تحت 18 ادارے کراچی چیمبرکے ساتھ مل کرکام کریں گے، شہریار آفریدی

پولیس کی صلاحیتوں کو بڑھانے،جدید ہتھیاروں سے لیس کرنے، تربیت دینے کی ضرورت ہے، سراج تیلی

کراچی: وزیرمملکت برائے داخلہ شہریار خان آفریدی نے کہا ہے کہ وزات داخلہ کے ماتحت تمام18 ادارے مختلف مسائل کے حل کے لیے کراچی چیمبرکے ساتھ مل کر بیٹھ کر کام کریں گے کیونکہ اسلام آباد سے اس وقت تک کوئی بھی فیصلہ کرنا ممکن نہیں جب تک ہم تاجروصنعتکار برادری کو درپیش مسائل سے مکمل طور پر آگاہ نہیں ہوں۔

شہریار خان آفریدی نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر کراچی چیمبر کا دورہ کیا تاکہ یقین دہانی کرائی جاسکے کہ کراچی چیمبرکے ساتھ ہمارا رابطہ مستقل بنیاوں پررہے گا۔میرا دفتر تمام ادارے بشمول ایف آئی آئے،کوسٹ گارڈ، نادرا،پاسپورٹ آفس اور دیگر محکمے کے سی سی آئی سے رابطے میں رہیں گے اور مختلف مسائل پر تبادلہ خیال جاری رکھا جائے گا۔ ہم ہر وہ قدم اٹھائیں گے جس سے نہ صرف تاجربرادری بلکہ پورے پاکستان کی عوام کی عزت ہو۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے موقع پر اجلاس سے خطاب میں کہا۔ اس موقع پر چیئرمین بزنس مین گروپ( بی ایم جی ) و سابق صدر کے سی سی آئی سراج قاسم تیلی،وائس چیئرمین بی ایم جی انجم نثار، کے سی سی آئی کے صدر جنید اسماعیل ماکڈا، سینئرنائب صدر خرم شہزاد، نائب صدر آصف شیخ جاوید،سابق صدور اے کیو خلیل، مفسر عطا ملک ،رکن صوبائی اسمبلی محمد علی عزیز اور منیجنگ کمیٹی کے اراکین بھی موجود تھے۔

شہریارآفریدی نے کہاکہ ہمارا یہ یقین ہے کہ کراچی کی تاجربرادری کو ذہنی سکون چاہیے اورملک کی معیشت میں ان کی شراکت کومدنظر رکھتے ہوئے انہیں عزت اور اونرشپ دینی چاہیے۔کراچی کی تاجربرادری اور اسلام آباد میں فیصلہ سازوں کے درمیان اعتماد اور رابطوں کا جوفقدان ہے ہم نئے پاکستان میں اس پر خاص توجہ دے رہے ہیں۔

وزیرمملکت نے کراچی کی اہمیت کواجاگر کرتے ہوئے کراچی چیمبر کی تاجروصنعتکار برادری کو خراج تحسین پیش کیا اورانہیں گمنام ہیروز قرار دیا جو ملک کے ہر کونے سے آنے والے لاکھوں لوگوں کو روزگار فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرر ہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ملک کے ہرشہری کے تحفظ کی ذمہ داری ریاست پر عائدہوتی ہے جسے ماضی میں بدقسمتی سے نظر انداز کیا جاتا رہا لیکن نئے پاکستان میں اب ایسا نہیں ہوگا اور قومی سلامتی پر کسی صورت بھی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

چیئرمین بزنس مین گروپ و سابق صدر کے سی سی آئی سراج قاسم تیلی نے کہاکہ گزشتہ 21سالوں کے دوران کے سی سی آئی کے عہدیداروں نے ہمیشہ پوری سچائی سے اپنا مؤقف پیش کیا جس کی وجہ سے ماضی میں کئی وزراء کراچی چیمبر کا دورہ کرنے سے گریز کرتے تھے لیکن اب ہمیں امید ہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں ایسا نہیں ہوگا اور کے سی سی آئی پر توجہ دی جائے گی۔

سراج تیلی نے کہا کہ ہمارا مطالبہ تو صرف اتنا ہے کہ کراچی کو اس کا منصفانہ اور جائز حصہ دیا جائے جو موجودہ حکومت یقینی بنائے۔

چیئرمین بی ایم جی نے تجارت و صنعت کو متاثر کرنے والے مختلف مسائل کو حل کرنے کے لیے کے سی سی آئی کی جانب سے مضبوط آواز بلند کرنے کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ یہ کے سی سی آئی کی کوششوں کا ہی نتیجہ ہے کہ کراچی آپریشن شروع ہوا اور اس کے نتیجے میں آج یہاں پچھلے 5سے6سال قبل کی نسبت امن وامان کی صورتحال بہت بہتر ہے۔بھتہ خوری اور اغواء برائے تاوان کے واقعات میں بتدریج کمی ہوئی ہے البتہ اسٹریٹ کرائم میں مسلسل اضافہ ہورہاہے۔

انہوں نے وزیرمملکت سے درخواست کی کہ اسٹریٹ کرائم پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات عمل میں لائے جائیں۔

سراج تیلی کے مطابق بنیادی اصلاحات اب تک متعارف نہیں کی گئیں جس کے نتیجے میں اب یہ خوف پیدا ہورہاہے کہ کراچی میں امن ومان کی صورتحال ایک بار پھر خراب ہوسکتی ہے۔اسٹریٹ کرائم میں حالیہ اضافے اوراغوا کی وارداتوں کی چند کوششوں کی وجہ سے عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کہ امن وامان کی پرانی ابتر صورتحال کا دوبارہ نہ سامنا کرنا پڑے لہٰذا حکومت کو کراچی میں دیر پا امن کے قیام کے لیے خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہاکہ محکمہ پولیس کراچی میں 30سے35فیصد افسران سیاسی وابستگی کی بنیاد پر بھرتی کیے گئے جیسا کہ موجودہ حکومت میرٹ کے بہت زیادہ دعوے کررہی ہے لہذاحکومت کو چاہیے کہ محکمہ پولیس میں سیاسی وابستگی کی بنیاد پر بھرتی ہونے والی کالی بھیڑوں کو نکال باہر کریں اور محکمے میں اصلاحات کی جائیں تاکہ پولیس جرائم پر قابو پانے کے قابل ہوسکے۔

سراج تیلی نے پولیس کی صلاحیتوں کو بڑھانے،جدید ہتھیاروں سے لیس کرنے اور مناسب تربیت دینے پر زور دیتے ہوئے کہاکہ رینجرز ہمیشہ یہاں نہیں رہے گی اور بلآخر محکمہ پولیس کو ہی روزانہ کی بنیاد پر امن وامان کی صورت پر قابو پانے کی ذمہ داریاں سنبھانا ہوں گی۔

انہوں نے اسلحہ اور گاڑیوں کی بلٹ پروفنگ کے لائسنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ’’ اسلحہ سے پاک سوسائٹی‘‘ جیسی مہم جس میں تمام اسلحہ لائسنس رکھنے والے یا بغیر لائسنس اسلحہ رکھنے والوں کو اسلحہ جمع کروانے کا کہا جاتا ہے اس قسم کی مہم کے بجائے حکومت کو چاہیے کہ صرف ایسے عناصر جو غیر قانونی اسلحہ رکھتے ہیں ان کے خلاف مؤثر حکمت عملی اختیارکرے اور جن کے پاس قانونی اور لائسنس یافتہ اسلحہ ہے انہیں مستثنیٰ قرار دیاجا ناچاہیے۔ گاڑیوں کو بلٹ پروف کراوانے کے لیے بھی کسی قسم کی پابندی نہیں ہونی چاہئے اور اس کے لیے وزارت داخلہ سے نو آبجیکشن سرٹیفیکیٹ کی پابندی بھی ختم کی جائے جس کی کوئی ضرورت نہیں۔

سراج تیلی نے کہا کہ بیورکریسی نے صرف اپنے مفادات کی خاطر ایسی رکاوٹیں پیدا کر رکھیں ہیں۔ یہ رکاوٹیں ا ور پابندیاں نہ صرف وزارت داخلہ بلکہ دیگر وزارتوں سے بھی ختم کی جائیں۔انہوں نےوزیرمملکت کو بتایا کہ ایئرپورٹس پر لگائی گئی اسکیننگ مشینیں بہت زیادہ فرسودہ ہو گئی ہیں جنہیں جدید آلات سے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اس ضمن میں وزارت داخلہ کو تمام ایئرپورٹس کا جائزہ لیتے ہوئے اصلاحات کرنی چاہیے۔

کے سی سی آئی کے صدر جنید اسماعیل ماکڈا نے کہاکہ منظم جرائم کے خاتمے، جرائم کے گروہوں کو حاصل سیاسی تحفظ اوربیوکریسی کے جانب سے تحفظ دینے پر قابو پانے کے حوالے سے مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔تاریخ میں پہلی بار قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جرائم،سیاست اور عسکریت پسندوں کے درمیان تعلق پر مستقل طریقے سے توجہ دی جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ۔اگرچہ امن وامان کی صورتحال بہتر ہے لیکن اسٹریٹ کرائم میں اضافہ ایک سنگین مسئلہ ہے جو شہر کی ترقی اور خوشحالی کے لیے خطرہ ہے۔

جنید ماکڈا نے بتایا کہ اگرچہ 2017 کو امن کا سال کہاجاتاہے تاہم اسی سال 57706شہری اپنی قیمتی اشیاء سے محروم ہوئے جس میں 1416فور وہیل گاڑیاں،25909ٹو وہیل گاڑیاں جبکہ 30381موبائل فونز شامل ہیں۔ اسی طرح2018 میں ستمبر تک 42500سے زائد شہری اپنی قیمتی اشیاء سے محروم ہوئے جس میں 957 فور وہیل گاڑیاں،19ہزار ٹو وہیل جبکہ 22600شہری موبائل فونز سے محروم ہوئے۔2018 میں اگست تک 250ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں جبکہ بھتہ خوری کے 37واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔

انہوں نے کہاکہ گلوبل ٹیررازم انڈیکس ( جی ٹی آئی ) میں درج 163 ممالک میں سے پاکستان10میں سے 8.4اسکور کے ساتھ 5ویں رینک پر تھا۔ 2007 سے پاکستان ٹیررازم انڈیکس کی بدترین ممالک کی فہرست میں چوتھے نمبر پر رہا جبکہ اسی عرصے کو دوران چھ مرتبہ دوسری پوزیشن پر بھی آیاا۔ اس سلسلے میں پاکستان کے بارے میں کئی غلط تاثرات کو درست کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ یہ درجہ بندی ز مینی حقائق کے برخلاف مفروضے پر مشتمل ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس ضمن میں واضع حکمت عملی وضع کرے تاکہ پاکستان کامثبت امیج اجاگر کیا جاسکے۔

کراچی چیمبر کے صدر نے محکمہ پولیس کو جدید اسلحہ سے لیس کرنے اور سیاست سے پاک کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ پولیس کو اسٹریٹ کرائم کے پس پردہ عناصر سے باآسانی نمٹنے کے لیے مضبوط بنایا جائے۔پولیس میں کمی کو پورا کرنے کے لیے میرٹ پر مزید بھرتیاں کی جائیں جن کی اولین ذمہ داری شہریوں کے تحفظ اور محفوظ ماحول کی فراہمی یقینی بنانا ہونا چاہیے لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہورہا۔

جنید ماکڈا نے وزیرمملکت سے درخواست کی کہ کے سی سی آئی میں قائم نیشنل کرائسس مینجمنٹ سیل کو فعال کرنے کے لیے کراچی چیمبر کے ساتھ ایم او یو سائن کیا جائے تاکہ امن وامان سے متعلق مسائل سے نمٹنے کے لیے تاجروصنعتکار برادری کی مدد کی جاسکے۔

ٹیگس

Zubair Yaqoob

The author has diversified experience in business reporting. He is senior editor at www.pkrevenue.com. He can be reached at [email protected]

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Alert: Content is protected !!
Close