اسٹاک اینڈ کوموڈیٹیزٹریڈ اینڈ انڈسٹریسیکٹورل
تازہ ترین

چین سی پیک کے طویل مدتی فوائد کے پیش نظر پاکستان کو سپورٹ کرے گا، عقیل کریم ڈھیڈھی

لائیو اسٹاک اور چاول کی برآمدات میں اضافے، چین سے مقامی کرنسی میں تجارت کے ذریعے زرمبادلہ حاصل کیا جاسکتا ہے

کراچی: اے کے ڈی گروپ کے چیرمین، معروف صنعت کار عقیل کریم ڈھیڈھی نے وزیر اعظم عمران خان کے دورہ چین کے بعد معاشی صورتحال، تجارتی توازن اور قرضوں کے بوجھ کے حوالے مختلف فورمز پر پنپنے والے مفروضات کی موجودہ معاشی اعداد و شمارکی روشنی میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دورہ چین کے حوالے سے مفروضات درست نہیں۔ سی پیک کا سب سے بڑا فائدہ چین کو حاصل ہوگا اور اس طویل مدتی فائدے سے چین کیونکر محروم رہنا چاہے گا؟ لہزا یہ تاثر قائم کرنا درست نہیں کہ چین پاکستان کو سپورٹ نہیں کرے گا۔ پاکستان نے چین سے امداد نہیں مانگی بلکہ قرض کی درخواست کی ہے اگر چین کی جانب سے 6 ارب ڈالر کی بجائے 3 ارب ڈالر بھی ملتے ہیں تو پاکستان کی معاشی مشکلات میں بڑی حد تک کمی واقع ہوگی۔


"چین کو ہمارے معاشی مسائل کا ادراک ہے”

عقیل کریم ڈھیڈھی کہتے ہیں کہ ملک میں توانائی اور سینمٹ کے شعبوں میں بڑی وسعت ہوئی ہے۔ اب انفرا اسٹرکچر میں عملی کام کا انتظار ہے اگر حکومت اس حوالے سے جلد حکمت عملی وضع کردے تو اس عمل کے ذریعے بیلنس آف پیمنٹ کے مسئلے پر بھی قابو پایا جاسکتا ہے۔

” ریگیولیٹری ڈیوٹیز کے نفاذ کے مثبت نتائج حاصل ہونگے”

اے کے ڈی گروپ کے چیرمین کہتے ہیں کہ سی پیک سے ہٹ کر حاصل کردہ تجارتی قرضوں کی ری شیڈولنگ سے ملک پر فوری ادائیگیوں کا دباؤ کم ہوگا۔ ماضی قریب یعنی 17-2016 میں دس، دس ارب کے قرضے لئے گئے جبکہ اس سال 9 ارب ڈالر کی ری پیمنٹ اور قرضوں کے مجموعی حجم اگر 3 ارب ڈالر کا سرپلس قرض حاصل کرنے سے جاری کھاتوں کے خسارے میں کمی واقع ہوگی۔ دوسری جانب حکومت نے درآمدات میں کمی کیلئے ریگیولیٹری ڈیوٹیز میں اضافہ کیا ہے۔ جس کے مثبت نتائج حاصل کردہ اعداد و شمار میں واضع طور پر نظر آرہے ہیں۔


” حکومتی اقدامات سے یقینی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ مجموعی درآمدات 53 ارب ڈالر سے تجاوز نہیں کریں گی”

عقیل کریم ڈھیڈھی کہتے ہیں کہ بعض ناقدین امپورٹ میں نمایاں اضافے کو درست انداز میں پیش کرنے سے قاصر رہے ہیں۔ درحقیقت، توانائی شعبے میں وسعت کے نتیجے میں ہماری درآمدات 60 ارب ڈالر تک جا پہنچی تھی۔ توانائی شعبے میں وسعت کیلئے کی گئی درآمدات، ریگیولیٹری ڈیوٹیز کے نفاذ سے کے ساتھ حکومت کی جانب سے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کے ذریعے 7 سے 8 ارب ڈالر کا واضع فرق نظر آئے گا۔ اعداد و شمار کے حوالے سے میں یقینی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ مالی سال کے اختتام تک مجموعی درآمدات 53 ارب ڈالر سے تجاوز نہیں کریں گی۔


” روپے کی قدر میں کمی، شرح سود میں اضافے سے مقامی صنعتوں پر عارضی جمود نظر آرہا ہے”

شرح سود میں اضافے سے مقامی صنعتوں پر عارضی جمود نظر آرہا ہے۔ روپے کی قدر میں کمی سے مہنگائی کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ روئی کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔


” لائیو اسٹاک اور چاول کی برآمدات میں اضافے کے اقدامات سے 4 ارب ڈالر زرمبادلہ با آسانی حاصل ہوسکتا ہے”

عقیل کریم ڈھیڈھی کہتے ہیں کہ بلفرض چین کی جانب سے تجارتی توازن کے اقدامات میں تعاون کی بجائے مقامی کرنسی میں تجارت پر رضامندی ظاہر کرنے کی صورت میں بھی پاکستان کی معاشی پوزیشن قدرے بہتر ہوسکتی ہے۔ چین کے لئے پاکستان کی کئی مصنوعات کارآمد ہوسکتی ہیں۔ چین کے علاوہ روس، ایران اور متحدہ عرب امارات لائیو اسٹاک کے درآمدی ممالک ہیں جہاں ہماری لائیو اسٹاک کو فروغ حاصل ہوسکتا ہے۔ اگر حکومت فوری توجہ دے تو ان ممالک میں ہم لائیو اسٹاک کی برآمدات سے با آسانی 2 ارب ڈالر کا زرمبادلہ حاصل کرسکتے ہیں۔ ماضی میں چاول کی برآمدات میں حائل رکاوٹوں کو دور نہیں کیا گیا اگر رائس ایکسپورٹرز کو آن بورڈ لیا گیا تو 2 اعشاریہ 2 ارب ڈالر کی برآمدات کو 4 ارب ڈالر تک لے جایا جاسکتا ہے۔


” حکومت نے اسٹاک مارکیٹ کے مسائل کے حل کا عندیہ دے دیا ہے”

جہاں تک چین کے دورے پر اسٹاک مارکیٹ کے رد عمل کا تعلق ہے، حکومت نے پہلے ہی اسٹاک مارکیٹ کے مسائل کے حل کا عندیہ دے دیا ہے اور مقامی صنعتوں کے فروغ سے اسٹاک ایکس چینج میں کاروباری سرگرمیوں کو تقویت ملے گی۔

مزید پڑھیئے: https://urdu.pkrevenue.com/uncategorized/in-6-qtrs-we-will-reach-the-economic-targets-akd/

ٹیگس

Zubair Yaqoob

The author has diversified experience in business reporting. He is senior editor at www.pkrevenue.com. He can be reached at [email protected]

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Alert: Content is protected !!
Close