ٹریڈ اینڈ انڈسٹریسیکٹورل
تازہ ترین

پچاس لاکھ سستے گھر منصوبے کی کامیابی تعمیراتی مٹیریئل کی قیمتوں میں کمی سے مشروط ہے۔ حسن بخشی

.وزیراعظم کی ہاؤسنگ ٹاسک فورس کی باگ ڈور تعمیراتی صنعت کے اسٹیک ہولڈرز کو دی جائے

کراچی: ایسو سی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے چیئرمین محمد حسن بخشی نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے 50 لاکھ سستے گھروں کے منصوبے کی کامیابی تعمیراتی مٹیریئل ۔۔ سیمنٹ،سریا،ٹائلز اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں کمی سے مشروط ہے ، ملک کے کروڑوں عوام کے اپنے گھر کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیویلپرز پاکستان (آباد) وزیر اعظم عمران خان کے اس منصوبے میں شانہ بشانہ ہے۔

الائیڈ گروپ کے پینل سے بھاری اکثریت کے ساتھ منتخب ہونے والے آباد کے نئے چیرمین محمد حسن بخشی نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی ہاؤسنگ ٹاسک فورس کی باگ ڈور تعمیراتی صنعت کے اسٹیک ہولڈرز کو دی جائے،آباد اس سلسلے میں 3 نام پیش کرے گی، منصوبے کے وسیع تر مفاد میں وزیراعظم آباد کی موثر تجاویز کا جائزہ لے کر فیصلہ کریں۔
آباد کے چیرمین محمد حسن بخشی نے ویر اعظم عمران خان کے 50 لاکھ گھروں کے منصوبے کے حوالے سے ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آباد وزیراعظم پاکستان کی 50 لاکھ سستے گھروں کی تعمیرمیں بھرپور عملی تعان کرے گی،اس ضمن میں ہم آباد کی تعداد اور استعداد کار کو بڑھائیں گے۔

انھوں نے بتایا کہ نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کے لیے اسٹیٹ بینک فنانسنگ ماڈل مرتب کررہا ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان نجی بینکوں کو سستے مکانات کی تعمیر کے لیے ایک یونٹ کی لاگت کا 80 فیصد قرضوں کی صورت میں دیں گے جبکہ 20 فیصد الاٹی کو دینا ہوگا۔

انھوں نے بتایا کہ مرکزی بینک50 فیصد سرمایہ ایک فیصد شرح مارک اپ پر 200 ارب روپے سال 2023 تک سرمایہ فراہم کرے گا جس پر بینک اپنا 4 سے 5 فیصدمارک اپ شامل کرکے عوام کو فراہم کریں گے۔ باقی 50 فیصد بینک کائبور پلس 3 فیصد پر قرضے فراہم کریں گے جو 11 فیصد کے لگ بھگ ہوگا اس طرح مرکزی بینک اور تجارتی بینکوں کے قرضے 7 سے 8 فیصد کے مارک اپ پر مالک مکان کو دیے جائیں گے۔

پریس کانفرنس کے دوران آباد کے سینئر نائب چیئرمین انور داؤد ، نائب چیئرمین عبدالکریم آڈیا،چیئرمین سدرن ریجن ابراھہم حبیب، سابق چیرمین جنید اشرف تالو اور سابق چیرمین سدرن زون محمد آصف سم سم بھی موجود تھے۔

محمد حسن بخشی نے بتایا کہ اس طرح قرضوں کی لاگت 7 سے 8 فیصد کے درمیان رہے گی۔انھوں نے کہا کہ وزیراعظم ہاؤسنگ اسکیم میں آباد کے ممبر بلڈرز اورڈیولپرز ہی کام کرسکیں گے۔ہم آباد کی اجارہ داری قائم کرنا نہیں چاہتے،ہم بلڈرز اور ڈیولپرز کو ایک چھتری تلے لانا چاہتے ہیں۔نجی شعبے کے بلڈرز اور ڈیولپرز کو بھی ون ونڈو آپریشن کی سہولت دی جائیں گی، آباد اس اسکیم کو سپلیمنٹ کرنا چاہتی ہے۔انھوں نے بتایا کہ ہم حکومت سے بلڈرز اور ڈیولپرز کے لیے فکس ٹیکس ریجیم کا کی استدعا کرنا چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ملک میں سالانہ 3 لاکھ مکانات تعمیر کیے جارہے ہیں جن میں سے ڈیڑھ لاکھ حکومت جبکہ ڈیڑھ لاکھ نجی شعبہ تعمیر کرتا ہے،نجی تعمیراتی شعبہ اپنی استداد کار کو اس اسکیم سے دگنا کرسکتا ہے۔ اس وقت ملک بھر میں نجی شعبے 1500 کے تعمیراتی منصوبے چل رہے ہیں۔

آباد کے چیرمین نے کہا کہ نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم میں آباد کے ممبران کم منافع پر کام کرکے عوام کو ڈیڑھ برس میں مکان کا قبضہ دیں گے۔انھوں نے کہا کہ نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کو سی پیک کے طرز پر نہ چلایا جائے۔اس اسکیم میں حصہ لینے والے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مقامی سرمایہ کاروں کے ساتھ شراکت داری کی شرط کو لازم کیا جائے۔

محمد حسن بخشی نے کہا کہ اس وقت سیمنٹ کے کارخانے 94 فیصد گنجائش پر کام کرکے مقامی کھپت کو پورا کررہے ہیں جبکہ سریے سمیت اسٹیل کی صنعتیں توسیعی پروجیکٹ کو مکمل کررہی ہیں۔تاہم حکومت کو سیمنٹ اور سریے سمیت بلڈنگز مٹیریلز کی پیداوار میں اضافہ کروانا پڑے گا۔انھوں نے کہا کہ سستے مکان کے رہائشیوں کے لیے پانی کا مسئلہ آر او پلانٹ کے ذریعے حل کیا جائے گا۔

ٹیگس

Zubair Yaqoob

The author has diversified experience in business reporting. He is senior editor at www.pkrevenue.com. He can be reached at [email protected]

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Alert: Content is protected !!
Close