ٹریڈ اینڈ انڈسٹریٹیکسیشن
تازہ ترین

42 ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایف بی آر کے رڈار پر آگئے

ایکسپورٹرز نے زیرو ریٹ کے غلط استعمال سے خزانے کو 7 ارب روپے کا چونا لگایا، ذرائع ایف بی آر

کراچی: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے زیرو ریٹ سہولت کا غلط استعمال کرنے والے 42 ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کا سراغ لگالیا۔ جنہوں نے جعلی رجسٹرڈ کمپنیوں کے ذریعے زیرو ریٹ سہولت سے فائدہ اٹھا کر حکومتی خزانے کو 7 ارب روپے سے زائد کا چونا لگایا۔

فیڈرل بورڈآف ریوینیو کے معتبر ذرائع نے بڑے اور معروف برانڈز کے حامل ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کے نام صیغئہ راز رکھنے کی شرط پر بتایا کہ محکمہ کی جانب سے زیرو ریٹ کے ناجائز استعمال کا سراغ مزکورہ ایکسپورٹرز کے ٹیکسٹائل یونٹس کے خام مال کی خریداری اور مصنوعات کی فروخت کی ماہانہ رپورٹس کے آڈٹ کے تفصیلی جائزے کے بعد لگایا گیا ہے۔

ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہے کہ ایس آر او 1125 (1) / 2011 کے تحت صرف رجسٹرڈافراد کو زیرو ریٹ سیلز ٹیکس کے تحت ٹیکسٹائل مصنوعات کے فراہمی کی اجازت دی گئی ہے۔ جس کا غلط استعمال کیا گیا ہے۔

قانون کے مطابق غیر رجسٹرڈ اور زیرو ریٹ کے ذمرے میں نا آنے والے افراد سے فلیٹ ریٹ 17 فیصد سیلز ٹیکس بشمول مزید 2 فیصد سیلز ٹیکس کی کٹوتی کی جائے گی۔

ایف بی آرذرائع کا کہنا ہے کہ 42 ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کے کھاتوں کی مزید چھان بین کے نتیجے میں انکشاف ہوا ہے کہ مزکورہ ٹیکسٹائل یونٹس نے 22 رجسٹرڈ یونٹس کو 36 ارب روپے کی مصنوعات فروخت کی گئیں جو کہ صرف کاغزات کی حد تک محدود ہیں اور جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

ایف بی آر ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ملک کے معروف برانڈز کے حامل 42 ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز نے زیرو ریٹ سہولت کا غلط استعمال کے ذریعے مصنوعات کو غیر رجسٹرڈافراد کو فروخت کرکے حکومتی خزانے میں ٹیکس کی رقوم جمع کرانے کی بجائے اربوں روپے کا منافع ہضم کرلیا۔

ایف بی آر نے زیرو ریٹ کے غلط استعمال سے ملکی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے والے مزکورہ 42 ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کو نوٹسسز کردیئے ہیں۔ ان نوٹسسز میں غیر رجسٹرڈافراد کو مصنوعات کی فروخت، زیرو ریٹ کی وضاحت اور حاصل ہونے والے منافع کے بارے میں جواب طلب کیا گیا ہے۔

ایف بی آر اس سلسلے میں ٹیکسٹائل مصنوعات کی نقل و حمل، گوداموں اور انوائسسز کی بھی تفصیلی جانچ پڑتال کرے گا۔ واضع رہے کہ سابق دور حکومت میں ملک کے نامور ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز نے اپنا اثر رسوخ استعمال کرتے ہوئے ٹیکسٹائل ایسوسی ایشنز کے ذریعے زیور ریٹ سہولت کو بحال کراتے ہوئے اربوں روپے کا منافع کمایا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک اس وقت شدید بحرانی کیفیت سے گزررہا ہے۔ بعض ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ملک کی معاشی بقاء کی بجائے اپنے محلات کی اینٹیں مضبوط کرنے میں غلطاں و پیچاں ہیں۔ اقتصادی و معاشی ماہرین نے موجودہ حکومت سے زیرو ریٹ کا غلط استعمال کرنے والے ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کا کڑا احتساب کرنے اور گزشتہ دس سال کے دوران برآمد کنندگان کا آڈٹ کرانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

ٹیگس

Zubair Yaqoob

The author has diversified experience in business reporting. He is senior editor at www.pkrevenue.com. He can be reached at [email protected]

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Alert: Content is protected !!
Close