ٹریڈ اینڈ انڈسٹریسیکٹورل

کینیا کی بندرگاہ پر پاکستانی چاول کے23 ہزار میٹرک ٹن سے لدے 600 کنٹینرز پھنس گئے

ہیلتھ سرٹیفیکیشن کے باوجود ممباسا بندرگاہ کے حکام اپنی لیبارٹری ٹیسٹنگ کرانے پر بضد، پاکستان سے رفیق سلیمان اور دیگر کینیا پہنچ گئے

کراچی: بین القوامی معیار کے مطابق کینیا کو کئی برسوں سے جاری چاول کی برآمدات کےباوجود ممباسا پورٹ اتھارٹی نے پاکستانی چاول اری اور دیگر اقسام کے چھے سو سے زائد کنٹینر کینیا میں داخلے سے روک دیئے ہیں۔ 23 ہزار میٹرک ٹن سے زائد پاکستانی چاول اس وقت ممباسا اتھارٹیز کے رحم و کرم پر ہے۔

انسانی صحت کیلیئے وضع کردہ بین القوامی سرٹیفیکیشن کے باوجود ممباسا پورٹ اتھارٹی پاکستانی چاول کے ٹیسٹ اپنی لیبارٹری میں کروانا چاہتی ہے۔ واضع رہے کہ ممباسا بندرگاہ پر منوعات کی ٹیسٹنگ کا نظام موجود نہیں لہزا ان کی ٹیسٹنگ نیروبی میں کی جاتی ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ٹیسٹنگ کے طویل مراحل سے پاکستانی ایکسپورٹرز کو لاکھوں ڈالر کے ڈیمریجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔

رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیرمین چوہدری سمیع اللہ نے کہا ہے کہ کینیا کے ساتھ طویل عرصے سے تجارت ہورہی ہے لیکن ماضی میں پاکستانی ایکسپورٹرز کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ماضی کی حکومتوں کو متعدد بار ویلیو ایڈیشن، ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ کے حوالے سے خط لکھے اور ہر فورم پر آواز اٹھائی لیکن مسائل جوں کے توں رہے۔

چوہدری سمیع اللہ نے وزیر اعظم عمران خان سے اپیل کی ہے کہ کینیا میں پھنسے کروڑوں ڈالر کے چھے سو کنٹینروں کی بحالی کے لئے پوری احکامات جاری کریں تاکہ پاکستانی ایکسپورٹرز کو بھاری نقصان سے بچایا جاسکے۔

واضع رہے کی ماضی قریب میں کینیا حکام کی جانب سے نیروبی سمیت دیگر شہروں میں پاکستانی چاول کے گوداموں میں چھاپے مار کر مارکٹینگ کرنے والوں کو منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار اور حراساں کیا گیا تھا

ٹیگس

Zubair Yaqoob

The author has diversified experience in business reporting. He is senior editor at www.pkrevenue.com. He can be reached at [email protected]

متعلقہ خبریں

کمنٹ

  1. کیا گورنمنٹ بجٹ 2018 میں کوئی تبدیلی کر رہی ہے ۔کیونکہ 2018 کے بجٹ پر کوئی عمل نہیں ہے ۔کیا نیا بجٹ یا منی بجٹ آسکتا ھے ۔نئے ٹیکس لگ سکتے ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Alert: Content is protected !!
Close