ٹریڈ اینڈ انڈسٹریٹیکسیشنفنانس
تازہ ترین

کراچی چیمبر نے بھی ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں ایک ماہ کی توسیع کا مطالبہ کردیا

وزیر خزانہ، چیرمین ایف بی آر کو خط ارسال، حقیقی ٹیکس گزاروں کو فوری سہولت دی جائے، مفسر عطا ملک

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( کے سی سی آئی ) کے صدر مفسر عطا ملک نے وزیرخزانہ اسد عمر اور چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر) ڈاکٹر محمد جہانزیب خان ارسال کئے گئے خط میں کہا ہے کہ انکم ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کی آخری تاریخ میں 31اکتوبر2018 تک توسیع کی جائے۔

وزیر خزانہ اور چیئرمین ایف بی آر کو ارسال کیے گئے خط میں کے سی سی آئی کے صدر نے استدعا کی کہ کے سی سی آئی کے ممبران کو متعارف کردہ نئے آف لائن آئی آرآئی ایس- اے ڈی ایکس نظام کو سمجھنے اور انکم ٹٰیکس ریٹرن جمع کروانے میں دشواریوں کا سامنا ہے۔اس سافٹ ویئر کے ذریعے آف لائن ٹیکس فائل کرنے میں اضافی وقت لگ رہا ہے جبکہ انکم ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کی آخری تاریخ30ستمبر2018کو ختم ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ آئی آر آئی ایس – اے ڈی ایکس سافٹ ویئر پچھلے ورژن کی نسبت قدرے بہتر تصور کیا جارہا ہے لیکن آئی آر آئی ایس میں اب بھی انکم ٹیکس سے متعلق بعض خامیاں موجود ہیں۔ کراچی چیمبر کے صدر نے خدشہ ہے کہ فائلرز کو کو گوشوارے جمع کرانے کے لیے محدود وقت دینے جانے کی وجہ سے ایف بی آر ممکنہ نتائج حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے گا ۔

مفسر ملک نے ارسال کردہ خط میں کہا ہے کہ انفرادی اورایسوسی ایشن آف پرسنز (اے او پیز) کے حتمی ٹیکس ریٹرن فارم 17 اگست 2018 کو جاری کئے گئے 90 دنوں کا اصولی وقت دینے کی بجائے گوشوارے جمع کرانے کے لیے صرف 44 دن فراہم کیے گئے جن میں عیدالاضحیٰ اور عاشورہ کے سبب سے سافٹ ویئر کو سمجھنے اور ریٹرن فائل کرنے کے لیے قلیل عرصہ ناکافی ثابت ہوا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کمپنیوں کے لیے ریٹرن فارم کو حتمی شکل نہیں دی گئی جس کی وجہ سے خصوصی ٹیکس سال کی کمپنیاں ریٹرنز جمع کرنے سے قاصر ہیں۔ کمپنیوں کے لیے ریٹرن فارمز کا مسودہ 04 ستمبر 2018 کو ذریعے جاری کیا گیا ۔ لیکن یہ فارمز اب تک التوا کا شکار ہیں ۔

کے سی سی آئی کے صدر نے کہا ہے کہ انکم ٹیکس قانون میں تبدیلی کرکے ذریعے سیکشن 182اے کا اضافہ کردیا گیا ہے جس کے باعث ہزاروں ٹیکس دہندگان میں تشویش کی لہر پائی جارہی ہے کہ تاخیر سے ریٹرن جمع کرانے کے نتیجے میں حقیقی ٹیکس گزاروں کو آئیندہ سال کے لیے نان فائلر تصور کیا جائے گا۔

جبکہ ان کا نام اور این ٹی این مارچ2020تک فعال ٹیکس دہندگان کی فہرست میں شامل نہیں کیا جائے گا جو ایماندار ٹٰیکس گزاروں کے ساتھ سرا سر نا انصافی ہے۔

مفسر عطا ملک نے امید ظاہر کی کہ محدود وقت کے سبب ٹیکس دہندگان کی دشواریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تاجروصنعتکار برادری کی خواہش کے مطابق وزیرخزانہ اور چیئرمین ایف بی آر انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع کرتے ہوئے اسے31اکتوبرتک بڑھانے کا اقدام کریں۔

ٹیگس

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Alert: Content is protected !!
Close