سیکٹورلفنانس
تازہ ترین

غیر منافع بخش ادارے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی معاونت نہ کریں، ایس ای سی پی

ایف اے ٹی ایف کی چالیس سفارشات کی روشنی میں ایس ای سی پی نے خیراتی اداروں اور این جی اوز کو نئی ہدایات جاری کردیں

اسلام آباد: سکیورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستان ( ایس ای سی پی) نے غیر منافع بخش اداروں کے لئے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام سے متعلق ہدایات جاری کر دی ہیں۔ یہ گائیڈ لائنز فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی سفارشات اور غیر منافع بخش اداروں میں مقامی طور پر موجود چیلنجز کو مدنظررکھتے ہوئے ترتیب دی گئی ہیں۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ( ایف اے ٹی ایف)، جس کا مقصد دنیا بھر میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کی کوششیں کرنا ہے، کی اس سلسلے میں چالیس سفارشات ہیں جو کہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے لئے عالمی معیارات تصور کی جاتیں ہیں۔

پاکستان بھی ایف اے ٹی ایف کے ایشیا پیسیفک گروپ کا رکن ہے اور اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق ایف اے ٹی ایف کی ان سفارشات پر عمل درآمد کرنا ہر رکن ملک کی ذمہ داری ہے۔ ان تمام شعبوں میں جنہیں کہ ایس ای سی پی ریگولیٹ کرتا ہے، منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی معاونت کی روک تھام کے لئے ان سفارشات کو ایس ای سی پی سختی سے نافذ کرنے اور ان پر عمل درآمد کروانے کے لئے اقدامات کر رہا ہے۔

ایس ای سی پی کی جانب سے غیر منافع بخش اداروں کے لئے جاری کی گئی ان گائیڈ لائنز کا مقصد کمپنیز ایکٹ کی دفعہ 42 کے تحت رجسٹرڈ غیر منافع بخش اداروں کو ایسے اقدامات کے لئے رہنمائی فراہم کرنا ہے کہ یہ ادارے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی معاونت نہ کریں۔

ایس ای سی پی کی جاری کردہ ان گائیڈ لائنز پر عمل درآمد سے نہ صرف دنیا میں پاکستان کا ساکھ بہتر ہو گی بلکہ غیر منافع بخش شعبے میں منی لانڈرنگ اور دہشت گروں کی مالی معاونت کی روک تھام کے حوالے سے ضروری اقدامات اور جانچ پڑتال سے متعلق آگہی بھی بہتر ہو گی۔

ان گائیڈ لائنز میں دہشت گردی کی مالی معاونت کے عمومی طریقہ کار ،غیر منافع بخش شعبے میں منی لا نڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے حوالے سے ہائی رسک والے عوامل، ان اداروں میں گڈ گورننس کے بنیادی اصول اور شفافیت اور مالی احتساب کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات اور ہائی رسک کی نشاندہی اور زیادہ خطرے والے غیر منافع بخش اداروں کی خصوصیات شامل ہیں ۔

گائیڈ لائنز ایس ای سی پی کی جانب سے پہلے سے جاری کردہ خیراتی اداروں اور غیر منافع بخش اداروں کے ضوابط 2018 پر عمل درآمد میں بھی معاونت فراہم کریں گی۔

# نئی ہدایات کے تحت کم رسک اور ہائی رسک اداروں کی دو الگ الگ کیٹگریز بنائی گئی ہیں۔۔

# این پی اوز کو اپنے غیرملکی ڈونرز اور عہدیداروں کی سکیورٹی کلئیرنس لینا ہوگی۔

# بیس کروڑ روپے سے زائد کی آمدنی والی این پی اوز کو مالیاتی رپورٹنگ کے عالمی قوانین پر عملدرآمد کرنا ہوگا، گائیڈ لائنز

# پچاس لاکھ سے زائد عطیہ کرنے والے شخص یا ادارے بارے میں ایس ای سی پی کو ماہانہ رپورٹنگ کرنا ہوگی

# این پی او کے پروموٹر کیلئے متعلقہ شعبے کے بارے میں قابلیت ہونا ضروری ہوگی۔

# غیرمنافع بخش ادارے بیس ہزار روپے سے زائد کی عطیات کیش میں نہیں لے سکیں گے

ٹیگس

Zubair Yaqoob

The author has diversified experience in business reporting. He is senior editor at www.pkrevenue.com. He can be reached at [email protected]

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Alert: Content is protected !!
Close