ٹریڈ اینڈ انڈسٹریٹیکسیشنفنانس
تازہ ترین

تجارتی سرگرمیوں کی آڑ میں منی لانڈرنگ، ایف بی آر نے بڑے ایکسپورٹرز اور مینوفیکررز کے شواہد حاصل کرلئے

برطانیہ میں پاکستانیوں کے خفیہ اثاثوں کے اعداد و شمار اندازے سے کہیں زیادہ ہیں، شواہد مکمل ہونے پر سخت ترین کاروائی ہوگی، ذرائع ایف بی آر

کراچی: برطانیہ میں پاکستانیوں کے خفیہ اثاثوں کی تفصیلات اہمیت اختیار کرگئیں ہیں۔ اس سلسلے میں فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) کے ذرائع کا کہنا ہے کہ 500 افراد کو بھیجے گئے نوٹسسز میں 80 فیصد افراد نے ایف بی آر سے رجوع کیا ہے لیکن 20 فیصد افراد کی جانب سے کوئی رسپانس نہیں ملا۔ ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ بیرون ملک سے جو شواہد سامنے آرہے ہیں وہ اندازے سے کئی گنا زیادہ ہیں۔

فیڈرل بورڈ آف ریوینیو کے حکام کا کہنا ہے کہ کراچی سے تعلق رکھنے والے افراد جن کے برطانیہ میں موجود اثاثوں کی چھان بین اور شواہد اکھٹے کئے گئے ہیں ان میں بیشتر کا تعلق ایکسپورٹ اور منیوفیکچرنگ شعبے سے ہے۔

ایف بی آر کی جانب سے بھیجے گئے نوٹسسز میں ان افراد کو تنبیہ کی گئی تھی کے وہ بیرون ملک موجود اپنے اثاثوں کی تفصیلات سے آگاہ کریں اور ناکامی کی صورت میں انکے خفیہ اثاثوں کی جانچ کے احکامات کے ساتھ مبینہ ٹیکس چوری کے قوانین تحت کروائی عمل میں لائی جاسکتی ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریوینیو کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ایکسپورٹرز اور مینو فیکچرز کی جانب سے بیرونی تجارت کی آڑ میں مبینہ طور پر منی لانڈرنگ کی گئی اور اس سلسلے میں اسٹیٹ بینک سے مشکوک تجارتی سرگرمیوں کی تفصیلات کی درخواست کی گئی ہے۔

ایف بی آر ذرائع نے مسائل پیدا ہونے کے پیش نظر ان افراد کی تفصیلات ظاہر کرنے سے معزرت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کاروباری طبقے کے بڑے ناموں کے بیرون ممالک موجود اثاثوں کی مالیت ماضی میں لگائے گئے اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔

ایمنسٹی اسکیم کی حتمی تاریخ کے بعد بیرون ممالک اثاثوں کے حامل افراد کے بارے میں ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ 31 جولائی سے قبل بارہا مطلع کیا گیا لیکن متعدد افراد نے نوٹسسز کے جواب دینے میں چشم پوشی اختیار کی۔ ذرائع نے کہا ہے کہ اب صرف کاروائی ہوگی اور ان افراد کے خلاف شواہد مکمل ہونے پر سخت ترین اقدامات کئے جائیں گے۔

ایف بی آر ذرائع نے چند روز میں بڑی پیش رفت کا امکان ظاہر کیا ہے

ٹیگس

Zubair Yaqoob

The author has diversified experience in business reporting. He is senior editor at www.pkrevenue.com. He can be reached at [email protected]

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Alert: Content is protected !!
Close