ٹیکسیشنفنانس

بینکوں کے 4 کروڑ 90 لاکھ اکاونٹس ایف بی آر کے رڈار پر آگئے

ایف بی آر کا ٹیکس چوروں کی جانب سے حکم امتناعی کو کلعدم کرانے کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے پر غور


کراچی: فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی تلوار ، منی لانڈرنگ کے مسائل سے نمٹنے اور ملک میں ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لئے وفاقی محصولاتی ادارے ایف بی آر نے جامع حکمت عملی تیار کرلی ہے جس پر عملدرآمد سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ملک بھر کے 4 کروڑ 90 لاکھ اکاونٹس تک با آسانی رسائی حاصل ہوگی۔

ایف بی آر کے انتہائی معتبر ذرائع نے  پی کے ریوینیو کو بتایا ہے کہ ماضی میں ٹیکس نیٹ بڑھانے کی راہ میں مبینہ ٹیکس چور حائل ہوتے رہے ہیں جو ملکی خزانے کو پورا ٹیکس ادا کرنے کی بجائے معزز عدالتوں سے حکم امتناعی حاصل کرتے رہے ہیں۔ ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی حکمت عملی کے تحت 4 کروڑ 90 لاکھ اکاونٹس تک رسائی حصال کرنے اور مبینہ ٹیکس چوروں کی جانب سے حکم امتناعی کو کلعدم کرانے کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔

ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک کے بڑے بینک اپنے کھاتے داروں سے ودھ ہولڈنگ ٹیکس کٹوتی کے بعد سرکاری خزانے میں باقاعدگی سے جمع کرواتے ہیں لیکن ایف بی آر کے رڈار پر آنے والے کھاتوں کی تفصیلات فراہم نہیں کررہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بینکاری شعبہ کے کھاتوں میں موجود رقوم میں ( 9.01 ) فیصد ریکارڈ اضافہ ہوا۔ ایک سال کے دوران  نمایاں تیزی دکھائی ہے بینکوں میں جمع شدہ رقوم جون 2018 تک ( 13.06) کھرب روپے ریکارڈ کی گئی جبکہ گزشتہ سال ایس عرصے میں بنکوں کی جمع شدہ رقوم ( 11.98) کھرب روپے رہیں

واضع رہے کہ 20 کروڑ 70 لاکھ کی آبادی میں صرف 15 لاکھ ٹیکس دہندگان ہیں ماضی میں ہر مشکل وقت پر انہی ٹیکس دہندگان کی گردنیں دبائی گئی تھیں۔ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے تحت ایف بی آر کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے مالی اداروں کے کھاتے داروں تفصیلات حاصل کرنے کا اختیار ہے لیکن گزشتہ پانچ برس سے مبینہ ٹیکس چوروں کی جانب سے حکم امتناعی حاصل کئے جانے کے نتیجے میں ملکی خزانے میں محصولات کے اضافے کے لئے ایف بی آر کے اقدامات مصلحتوں کی نظر ہوگئے تھے۔

ایف بی آر کے ذرائع نے کہا کہ وفاقی ٹیکس اتھارٹی بھی اس طرح کے معاملات میں قیام کو روکنے کے لئے پاکستان کی سپریم کورٹ سے رابطہ کرنے پر غور کر رہی تھی

مزید پڑھیے

انکم ٹیکس آرڈیننس سیکشن 165 اے اور فنانس ایکٹ 2013  کے ذریعے ایف بی آر کو اختیار حاصل ہے کہ بینکوں کے مرکزی ڈیٹا بیس کے آن لائن تک رسائی،دس لاکھ روپے یا اس سے زائد کی ٹرانزیکشن کرنے والے اکاؤنٹ ہولڈرز کی تفصیلات اور ان کے تمام ٹرانزیکشن اکاؤنٹس کسی کھاتے دار کو جاری کردہ کریڈٹ کارڈ کی تفصیلات، دس لاکھ یا اس سے زائد قرض معاف کرانے اور غیر ملکی کرنسی کی لین دین کو بزریعہ اسٹیٹ بینک کے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ ( ایف ایم یو) کی نگرانی اور معلومات تک رسائی حاصل کرسکتا ہے

ایک اندازے کے مطابق ملک میں سراہیت کرنے والا کالا دھن مجموعی معیشت کے حجم کے برابر تصور کیا جارہا ہے۔ واضع رہے کہ پاکستان کے دو بڑے بینکوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر منی لانڈرنگ کے ذمرے میں آنے والی مشکوک ٹرانزیکشنز پر امریکی ادارے نے بھاری جرمانے عائد کئے تھے۔ ایف بی آر کی نئی حکمت عملی اسی سلسلے کی کڑی تصور کی جارہی ہے۔ متوقع وزیر خزانہ اسد عمر نے بھی اس امر کا عندیہ دیا ہے کہ محصولات میں اضافے کے لئے ٹیکس نیٹ کا دائرہ کار وسیع کیا جائے گا۔

ٹیگس

Zubair Yaqoob

The author has diversified experience in business reporting. He is senior editor at www.pkrevenue.com. He can be reached at [email protected]

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Alert: Content is protected !!
Close