فنانس

بیرون ملک اثاثے رکھنے والوں کے خلاف کاروائی تیز

ایف بی آر نے کراچی کے چار سو افراد کو نوٹس جاری کردئیے


کراچی: محصولات کے وفاقی ادارے ایف بی آر نے تمام تر وسائل کو بروے کار لاتے ہوئے بیرون ممالک پاکستانیوں کے اثاثوں اور جائیداد کی تفصیلات کے حصول کے بعد نوٹسسز جاری کرنا شروع کردیئے ہیں۔

 
دلچسپ امر یہ ہے کہ اب تک جاری کئے جانے والے 400 نوٹسسز کی فہرست میں  والے کراچی سے تعلق رکھنے ساستدان، تاجر،صنعتکار اور کمپنیز کے اعلٰی عہدیدار شامل ہیں۔ جاری کردہ نوٹسسز میں برطانیہ میں بنائے جانے والے اثاثوں اور جائیدادوں کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔

 
ایف بی آر کے ایک سینئر افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی بنیاد پر بتایا ہے کہ برطانیہ کی ٹیکس ایجنسی کے ساتھ جولائی کے اوآئل میں ٹیکس چوروں کے گرد گھیرا تنگ کرنے اور انہیں پکڑنے کے لئے منصوبہ شروع کیا تھا۔ معلومات کے اس تبادلے میں ایف بی آر کو خاطر خواہ کامیابی ہوئی ہے۔ ایف بی آر کے ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کی حتمی تاریخ یعنی 31 جولائی تک کاروائی روکی گئی تھی۔

اعلٰی سطح سے ایف بی آر حکام کو ملنے والے خصوصی احکامات کے بعد ادارے کے ایسے افسران کا انتخاب کیا گیا ہے جنکے ماضی بے داغ اور فنا نشل کرائمز کی بو سونگھنے اور انہیں جڑسے پکڑنے کی خصوصی صلاحیت اور تربیت رکھتے ہیں۔

 

پاکستانیوں کے بیرون ممالک اثاثوں اور غیر منقولہ جائیدادوں کی خودکار نظام کے تحت معلومات کے حصول کے لئے چھے زونز قائم کئے گئے ہیں۔ کراچی زون کو 700 افراد کی فہرست دی گئی ہےجہوں نے برطانیہ میں مبینہ طور پر ٹیکس چوری کے ذریعے جائیدادیں خریدی ہیں۔ کراچی زون میں لارج ٹیکس یونٹ ( ایل ٹی یو)، لارج ٹیکس یونٹ ٹو، کارپوریٹ ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او)، ریجنل ٹیکس آفس ٹو (آر ٹی او.2)، ریجنل ٹیکس آفس 3 (آر ٹی او.3)، حیدر آباد آر ٹی او اور سکھر آر ٹی او شامل ہیں۔

 

 

ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ جاری کردہ نوٹسسز کے جواب موصول ہورہے ہیں اور حسب توقع ان جوابات کی رفتار انتہائی سست ہے لیکن وفاقی ادارہ اپنی رفتار اور اہداف کے حصول کے لئے تیز ترین اقدامات کرے گا۔ حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں فہرست ہزاروں افراد پر پہنچے گی۔  اگر پاکستانی  بیرون ممالک اپنی جائیدادوں کے ذرائع آمدن ظاہر کرنے میں ناکام رہے تو دوسرے مرحلے میں سخت قانونی کاروائی کے ساتھ رقوم کی بھاری جرمانوں کے ساتھ وصولی شروع کی جائے گی۔

 

مزید پڑھیئے۔۔۔۔

 

مسلم لیگ نون کے دور حکومت میں اعلان کردہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے ذریعے صرف 6 کروڑ چالیس لاکھ ڈالر ( 7 ارب 93 کروڑ 60 لاکھ روپے ) حاصل ہوئے جس میں 3 کروڑ 32 لاکھ ڈالر پاکستانی روپے میں تبدیل ہوئے جبکہ ایمنسٹی سے فائدہ اٹھانے والوں نے  2 کروڑ 20 لاکھ ڈالر بانڈز خریدے دوسری جانب صرف 80 لاکھ ڈالر غیر ملکی اثاثے ظاہر کرنے کی مد میں ادا کئے گئے۔

 

اقتصادی ماہرین کہتے ہیں کہ ماضی کی حکومت اور ان کے کارندوں کا ایمنسٹی اسکیم حمایت میں ملک گیر شور و غوغا اور اربوں روپے کی اشتہاری مہم کے نتائج اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ثابت ہوئے ہیں

 

اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم کے ذریعے 82 ہزار 443 ڈیکلیئریشن داخل کئے گئے ان ڈیکلئریشنز کے تحت 190 ارب ڈالر کے غیر ملکی اور 147 ارب روپے کے مقامی اثاثے ظاہر کئے گئے۔

 

ٹیگس

Zubair Yaqoob

The author has diversified experience in business reporting. He is senior editor at www.pkrevenue.com. He can be reached at [email protected]

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Alert: Content is protected !!
Close