سیکٹورل

کے الیکٹرک کے تحت یوم آزادی کے موقع پرپرچم کشائی اور سینٹ پیٹرک کیتھڈرل میں شجرکاری کا انعقاد 

کراچی: کے الیکٹرک نے اپنی پلانٹ فار پاکستان مہم کے تحت ماحولیاتی استحکام کیلئے جاری کوششوں کے طور پر سینٹ پیٹرک کیتھڈرل میں نومنتخب کارڈینل ،معزز جوزف کوٹس کی موجودگی میں شجرکاری مہم انجام دی۔جشن آزادی کے موقع پر’’پلانٹ فار پاکستان‘‘ کاپیغام عام کرنے کیلئے کیتھڈرل گراؤنڈز میں 300سے زائد پور لگائے گئے اور تقسیم کئے گئے ۔

کراچی پریس کلب میں بھی کے الیکٹرک کی ترجمان اعلٰی سعدیہ ڈاڈا نے کے پی سی کے عہدییداروں اور سینئر صحافیوں، مقصود یوسفی، احمد خان ملک، رضوان بھٹی ، شمس کیریواور دیگر کی موجودگی میں پودے لگائے۔  سینئر صحافیوں مقصود یوسفی، احمد خان ملک  اور رضوان بھٹی نے ماحولیاتی تبدیلیوں سے نبرد آزما ہونے کے لئے کے الیکٹرک کی شجرکاری مہم کو سراہا۔

 

ادھر سینٹ پیٹرک کیتھڈرل میں کارڈینل کوٹس نے کے الیکٹرک کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ،’’پودے لگانا ایک عظیم عمل ہے اورجو بھی شخص درخت لگانے کے عظیم کام میں مصروف ہے وہ ہمارے مشترکہ گھر ،اس زمین کی دیکھ بھال میں اپنا کردار ادا کررہا ہے۔کے الیکٹرک کی جانب سے پودے لگانے کا اقدام سرسبز پاکستان کی جانب ایک قدم ہے، جس کیلئے ہم ان کے شکرگزار ہیں۔‘‘

کے الیکٹرک کے ترجمان نے کہا کہ،’’درختوں کی صورت میں پرچم کو بلند کرنا یوم آزادی منانے کا بہترین طریقہ ہے۔پاکستان کو سرسبزاور صاف بنانے کی کوششوں کے طور پر ہم پہلے ہی 100,000پودے لگاچکے ہیں۔ہم درخت لگانے کے عمل کو فروغ دینے اور شعور بیدار کرنے کیلئے باغبانی کے ماہرین اور سوشل سیکٹرکے پارٹنرز کے ساتھ بھی تعاون کررہے ہیں۔‘‘

 

کے الیکٹرک نے اپنے ’پلانٹ فار پاکستان ‘اقدام کے تحت دیگر اداروں کے ساتھ بھی تعاون کیا ہے جن میں ڈبلیو ڈبلیو ایف، این ای ڈی، سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی اور متعدد دیگر ادارے شامل ہیں۔اس کے علاوہ ، پاور یوٹیلٹی کا بن قاسم پاور اسٹیشن ایف گرین آفس کا درجہ حاصل کرنے والا پاکستان کا پہلا پاور پلانٹ ہے۔کے الیکٹرک میں توانائی کی بچت کے حوالے سے ایک ٹیم موجود ہے جوتوانائی کے تحفظ کے بارے میں آگاہی کو فروغ دینے کے لیے سرگرم ہے اور عالمی ضابطوں کے مطابق انرجی آڈٹ بھی انجام دیتی ہے ۔

ٹیگس

Zubair Yaqoob

The author has diversified experience in business reporting. He is senior editor at www.pkrevenue.com. He can be reached at [email protected]

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Alert: Content is protected !!
Close