انٹرویوٹریڈ اینڈ انڈسٹری
تازہ ترین

آباد نے تعمیراتی صنعت کی بقاء کیلئے آٹھ تجاویز کے ساتھ حکومت کو ” ایس او ایس” کال دے دی ہے: حسن بخشی

شہر پر ٹینکر مافیا کا راج ہے، 50 لاکھ گھروں کا منصوبہ اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت کے بغیر ممکن نہیں ہوگا

کراچی: ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیویلپرز (آباد) کے چیرمین محمد حسن بخشی نے پی کے ریوینیو کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ تعمیراتی صنعت کے ساتھ متواتر ناانصافیاں ہورہی ہیں۔ عالمی اداروں کے سامنے کشکول پھیلانے سے بہتر ہے کہ اپنی صنعتوں کے مسائل حل کئے جائیں۔ حکومت سنجیدہ ہے تو تعمیراتی صنعت کے مسائل فوری حل کرے۔ چند برسوں میں ملک معاشی اور روزگار کے بحران سے نکل آئے گا۔۔۔۔۔۔۔۔

حسن بخشی: الائیڈ پینل کا سفر 2014 سے شروع ہوا، جسے محسن شیخانی نے لیڈکیا۔ پہلے ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیویلپرز پاکستان مقامی سطح پر کام کررہی تھی۔ لیکن محسن شیخانی اور ان کی ٹیم نے آباد کو قومی سطح اور پھر بین القوامی سطح پر متعارف کیا۔


” الائیڈ پینل کا سفر 2014 میں شروع ہوا، محسن شیخانی پینل کے پیٹرن انچیف ہیں”

حسن بخشی: مسلسل چھٹا سال ہے کہ الائیڈ گروف نے مسلسل کامیابیاں حاصل کیں۔ پہلے سال محسن شیخانی چیرمین منتخب ہوئے ایک سال بعد جنید اشرف تالو منتخب ہوئے تیسرے سال محسن شیخانی بھاری اکثریت سے منتخب ہوکر چیرمین بنے، چوتھے سال محمد حنیف گوہر چیرمین بنے، پاچھویں سال عارف یوسف جیوا آباد کے چیرمین منتخب ہوئے اور اس سال میرا انتخاب ہوا۔ تمام شخصیات نام چین بلڈرز ہیں جو شہرت سے بالاتر ہوکر تعمیراتی صنعت کی بقاء اور آباد کی ترقی کے لئے کوشاں رہے ہیں۔

حسن بخشی: محسن شیخانی نے الائیڈ گروپ کی بنیاد رکھی اور انہیں ہی اس گروپ کا پیٹرن انچیف مقرر کیا گیا ہے۔


” میں نے یہ عہدہ ایک چیرمین کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک ادنٰی کارکن کی حیثیت سے سنبھالا ہے”

حسن بخشی: میں نے یہ عہدہ ایک چیرمین کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک ادنٰی کارکن کی حیثیت سے سنبھالا ہے۔ ایسوسی ایشن آف بلڈرز کا بنیادی مقصد تعمیراتی شعبے کو اس کا جائز حق دلانا ہے۔ کسی بھی حکومت نے اب تک ایسوسی ایشن آف بلڈرز کو وہ درجہ نہیں دیا جو اس کا حق ہے۔


” تعمیراتی شعبہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے مجموعی سرمایہ کاری حجم سے کئی گنا بڑا ہے”

حسن بخشی: اس حقیقت کو آشکار کرنا میرا فرض ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے مجموعی سرمایہ کاری حجم سے کئی گنا بڑا حجم آباد کا ہے۔ اس کے اراکین جو ملک کے معروف بلڈرز ہیں وہ اپنے سرمائے سے تعمیراتی صنعت کو پروان چڑھارہے ہیں۔ پاکستان اسٹاک ایکس چینج کے علاوہ دیگرصنعتوں کو قرض کی سہولت سدباب ہے لیکن آباد کے ممبران اپنے ذاتی سرمائے سے لاکھوں محنت کشوں کے روزگار کا وسیلہ بن رہے ہیں۔

ایسوسی ایشن کی ترجیحات میں چند نکات اہم ہیں جن پر میں نے اور میری ٹیم نے کام شروع کردیا ہے۔

” آباد ہاؤس کی وسعت کے ساتھ 500 افراد کی گنجائش پر مشتمل جدید آڈیٹوریئم تعمیر کیا جائے گا”

حسن بخشی: آباد ہاؤس کو وسعت دی جائے گی جس میں جدید طرز کا آڈیٹوریم قائم کیا جائے گا جس میں 500 افراد کی گنجائش ہوگی۔ آباد ہاؤس میں ایک کمپلینٹ باکس نصب کیا گیا ہے جس میں میرے ہی خلاف شکایات کیوں نہ ہو انہیں ایک کمیٹی کے تحت سنا اور ان کا تدارک کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ممبران کی شکایات کے ازالے کے لئے اب تمام میٹنگز کا بروقت انعقاد یقینی بنانے کے لئے اہم فیصلے کئے گئے ہیں۔ بلفرض کہ کسی کمیٹی کے اجلاس کیلئے اس کے چیرمین کی آمد میں تاخیر کے نتیجے میں کو چیرمین یا اس کے سینئر ممبر میٹنگ کنڈکٹ کریں گے۔ اس فیصلے سے یہ باور کرانا مقصد ہے کہ وقت کی قدر کی جائے۔

حسن بخشی: میری نظر میں تعمیراتی شعبے سے بڑا مقام پاکستان میں کسی بھی صنعت کا نہیں چاہے اسے سرمایہ کاری کی نگاہ سے دیکھا جائے، محصولات کے حوالے سے یا روزگار فراہم کرنے کے لحاظ سے۔ ہر زاویئے سےتعمیراتی شعبہ ملکی ترقی اور معاشی انجن کو چلانے کا سب سے بڑا ٹول ہے۔ تعمیراتی شعبے کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس میں کمپلائنٹ نہیں ہے، مثلا” آٹو شعبے کی ہر چیز ریکارڈ پر ہے اس کی بک مینٹین ہورہی ہے۔

مثال کے طورپر کسی بھی بڑے تعمیراتی منصوبے میں اگر سو اپارٹمنٹ ہیں اور ایک اپارٹمنٹ 2 کروڑ روپے کا ہے اگر اب بلڈر سے پوچھا جائے کہ اس نے کتنا ریوینو جنریٹ کیا، کتنا روزگار فراہم کیا تو میرا خیال ہے کہ چند ہی بلڈرز ایسے ہونگے۔ ہم نے تعمیراتی شعبے کو ایک نئی جہت سے متعارف کرانا ہے۔


” صنعت کی جدت کیلئے ماہر تعمیرات کی خدمات حاصل کی گئی ہیں”

حسن بخشی: آباد نے ایک ماہر تعمیرات کی خدمات حاصل کی ہیں جو آباد کے تمام ممبران کو جدید تعمیراتی تکنیک سے متعارف کرائے گا۔ ہم طویل عرصے سے 14 کلو کے بلاک استعمال کررہے ہیں جبکہ جدید تکنیک کے لحاظ سے اب 4 کلو وزن کے بلاک تیار اور استعمال ہورہے ہیں جس سے بلند و بالا عمارت کا وزن کم اور سریا بھی کم لگتا ہے لیکن اس عمارت کے لائف اسپین میں کوئی فرق نہیں آتا۔ پاکستان میں اب بھی ایک تعمیراتی منصوبہ تین سال میں پائیہ تکمیل کو پہنچتا ہے اس کے برعکس دنیا بھر میں جہاں جدید ٹیکنالوجی آچکی ہے ان ممالک میں ایک بلند و بالا تعمیراتی منصوبہ صرف 6 ماہ میں مکمل ہورہا ہے۔ ہم نے جدید دنیا اور پاکستان کے درمیان ٹیکنالوجی کے فرق کو دور کرنا ہے۔

” حکومت تعمیراتی عمل کو ڈیجیٹلائز کرے تاکہ رشوت کا خاتمہ ہوسکے”

حسن بخشی: آباد کی کوشش ہے کہ موجودہ حکومت کے ساتھ ملکر تعمیراتی شعبے کے ہر عمل کو ڈیجٹلائز کیا جائے تاکہ کسی بھی سطح پر رشوت کا خاتمہ ہوسکے۔ میری خواہش ہے کہ آباد کے کم از کم 50 ممبران اسٹاک ایکسچینج سے رجسٹر ہوں۔

” دنیا بھر میں رئیل اسٹیٹ کی فانسنگ کا انجن ریٹ ہے”

حسن بخشی: رئیل اسٹیٹ انوسٹمنٹ ٹرسٹ کے حوالے ہمارے ڈیویلپرز اور بلڈرز نامعلوم خوف کے شکار کہ ریٹ آنے سے ان کے کام ٹپ ہوجائیں گےلیکن میری رائے میں جو بلڈرز صاف ستھرا کام کررہے ہیں ان کے لئے ریٹ بہترین مواقع فرام کرے گا۔ دنیا بھر میں رئیل اسٹیٹ کی فانسنگ کا انجن ریٹ ہے۔ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کو 1 کروڑ 20 لاکھ گھروں کی قلت کا سامنا ہے۔ ہمیں رئیل اسٹیٹ انوسٹمنٹ ٹرسٹ کی طرف جانا پڑے گا اور اس کے لئے ہم تیار ہیں۔ ہم نے سابق حکومت سے کہا تھا کہ جائیداد کی منتقلی پر ایک فیصد ٹیکس عائد کیا جائے اور صوبائی حکومتیں بھی ایک فیصد کریں اگر ایسا ہوا تو لوگ جائیداد کی اصل قیمت سے رجسٹریشن کرانا شروع کرینگے وفاق کے اس تجویز کی توچیق کی ہے لیکن موجودہ صوبائی حکومت نے تاحال اس پر حامی نہیں بھری۔ ہم اس حوالے سے حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

” حکومت برسوں کی مشقت کے بعد فیلٹ حاصل کرنے والوں پر فائلر کی شرط ختم کرے، سرمایہ کاری فلیٹوں پر نہیں زمینوں پر ہوتی ہے”

حسن بخشی: جو قوانین ریٹ کے لئے لاگو کئے گئے ہیں وہ ہم پر بھی لاگو کئےجایئں آباد اس کے لئے تیار ہے۔ ہماری حکومت سے استدعا ہے کہ جس سے تعمیراتی منصوبے کے لئے پلاٹ لیا جائے اس پر فائلر کی شرط لگائی جائے ناکہ ایک ایسے شخص پر جو اپنی چھت کے لئے چارسال قسطیں ادا کرنے اور قرض چکانے میں دوہرا ہوجاتا ہے اس پر فائلر کی شرط لاگو کئے جانے سے مشکلات کا شکار ہوگا۔ فلیٹوں پر سرمایہ کاری نہیں ہوتی، زمینوں پر ہوتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ معاشی سرگرمیوں کی رفتار بڑھانے معاون ثابت ہو۔ ایسے اقدامات سے عام آدمی نہ تو فیلٹ خدید سکے گا نہ ہی اسکا اپنی چھت کا خواب پورا ہوگا۔

حسن بخشی: زمین پر سال ہا سال لگائی جانے والے سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کی جائے تاکہ یہ پیسہ مثبت معاشی سرگرمیوں کے لئے استعمال ہوسکے۔ سرمایہ کاری کے لئے خریدی جانے والی زمین سال ہا سال بے مصرف رہتی ہے جسے بعدازاں بڑی قیمت پر فروخت کیا جاتا ہے۔ ایک عام آدمی اس پر تعمیر کردہ فیلٹ حاصل کرنے کے لئے بھاری قیمت دینے پر مجبور ہوتا ہے۔ حکومت سادہ سا حساب نہیں جوڑتی کہ ایک شخص جس کی ماہانہ تنخوا 2 لاکھ روپے ہے اسے بچوں کی تعلیم ، گھر کا کرایہ، میڈیکل، یوٹیلیٹی بلز، اور راشن بھی ڈلوانا ہے وہ 50 سے 60 لاکھ کا فلیٹ کتنے جتن کرنے کے بعد حاصل کرسکتا ہے اور سے فائلر کی شرط۔ وہ بیچارہ قرض لے کر اپنا پیٹ کاٹ کر فلیٹ کے حصول سے زیادہ محصولات کے ادارے کو جواب دیتے ہوئے ہلکان ہوجائے گا۔

” تعمیراتی صنعت پر بے جا قدغنیں بے روزگاری اور اسٹریٹ کرائم کا سبب بنی ہیں”

حسن بخشی: جب سے تعمیراتی صنعت پر بے جا قدغنیں لگائی گئی ہیں اس شعبے میں لاکھوں افراد کے لئے روزگار کے در بند ہونے سے ڈیڑھ سال کے دوران اسٹریٹ کرائم کئی گنابڑھ گئے ہیں۔ عام آدمی اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے مجبورا” غلط راستوں کا انتخاب کررہا ہے۔ ڈیڑھ سال سے کوئی تعمیراتی منصوبہ منظور نہیں ہوا۔ ہر سال 25 لاکھ نوجوان تعلیم مکمل کرکے روزگار کی تلاش میں سرگرداں ہیں اس کے برعکس صرف تیرہ لاکھ ملازمتیں وہ بھی کم تنخواہوں ہر دستیاب ہوتی ہیں، حکومت کو جنگی بنیادوں پر حکمت عملی مرتب کرنا ہوگی کہ ہر سال گھروں کے ساتھ ساتھ بارہ 12 لاکھ ملازمتوں کا شارٹ فال کیسے دور کیا جائے۔ اگر بلند و بالا تعمیراتی منصوبوں پر قدغنیں ہٹائی جائی تو یہ صنعت سالانہ 15 کالھ سے زائد روزگار کے یقینی مواقع فراہم کرے گی۔

حسن بخشی: حکومت دیکھ لے کہ تعمیراتی صنعت میں ہر قسم کے روزگار مل سکتے ہیں، 70 سے زائد الائیڈ انڈسٹریز اس صنعت کے ساتھ منسلک ہونے کے علاوہ بلواسطہ کئی جامعات جڑی ہوئی ہیں۔ نا تو کی صنعت ریبیٹ مانگتی ہے نا ہی حکومتی امداد پر چلتی ہے۔ حکومت کی جانب سے مثبت فیصلوں میں جس قدر تاخیر ہوگی اس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑے گا۔


” صوبائی حکومت کی فیصلہ سازی اور واٹر بورڈ کی غلط رپورٹس کے نتیجے میں تعمیراتی شعبے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے”

حسن بخشی: صوبائی حکومت کی فیصلہ سازی اور واٹر بورڈ کی غلط رپورٹس کے نتیجے میں تعمیراتی شعبے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے جس کے سبب بیروزگاری، اسٹریٹ کرائم اور سرمایہ کاری معطل ہوچکی ہے۔ مارچ 2018 سے واٹر بورڈ کی جانب سے حیلے بہانوں سے این او سی روکی جارہی ہے۔


” کچی آبادیوں میں بسنے والے لاکھوں افراد زندگی جینے کیلئے مجبورا” غلط راستوں کا انتخاب کرتے ہیں”

2014 میں کچی آبادی کی ری یبیلیٹیشن کے لئے آباد نے سندھ اسمبلی سے بل منظور کروایا تھا جس کے تحت کراچی کی 58فیصد کچی آبادیاں جہاں بسنے والے لاکھوں افراد زندگی جینے کے لئے مجبورا” غلط راستوں کا انتخاب کرتے ہیں انہیں آباد اپنا گھر، ان منصوبوں میں روزگار اور تعلیم کی سہولت دینا چاہتا ہے تاکہ ان آبادیوں میں بسنے والے لاکھوں لوگ معاشرے مقام بنا سکیں۔ اچھے لوگ سیاست میں نہیں جانا چاہتے اگر جاتے ہیں تو رشتہ دار بھی ان سے دور ہوجاتے ہیں۔ اگر اچھے لوگ سیاست میں نہیں جائیں گے تو معاشرے میں سدھار کیسے پیدا ہوگا۔


” کرپشن کے ناسور نے پاکستان کو ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے دھکیل دیا ہے”

حسن بخشی: پاکستان ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ گیا ہے، ہم معاشرے کے لئے اجتماعی سوچ کی بجائے اپنا مفاد مقدم رکھتے ہیں۔ ماضی میں ہم نے ملائشیا کی مالی امداد کی لیکن غلط پالیسیوں اور مفادات کی جنگ نے عوام کو بے حال کردیا جبکہ ملائشیا اب ویلفیئر اسٹیٹ بن چکا ہے حکومت تعمیراتی صنعت کو مقدم رکھتی ہے جس کے نتیجے میں وہاں تعمیراتی انقلاب آیا۔ اس وقت ملک بحرانی کیفیت کا شکار ہے ہم سب کا فرض ہے کہ حکومت کے ہر مثبت فیصلے کا احترام کریں انشاء اللہ پاکستان جلد اس بحرانی کیفیت سے نکل آئے گا۔

” لاکھ گھروں کا منصوبہ اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت کے بغیر ممکن نہیں ہوگا”

حسن بخشی: حکومت نے منشور کے مطابق50 لاکھ گھروں کی تعمیر کا اعلان تو کردیا ہے لیکن سستے گھروں کی تعمیر اس وقت تک ممکن نہیں ہوگی جب تک تعمیراتی مٹیرئیل کی قیمتوں میں کمی نہیں کی جاتی اور ان منصوبوں میں حقیقی اسٹیک ہولڈرز ہو شامل نہیں کیا جاتا۔ یہ ناممکن ہے کہ ایک ڈاکٹر کو مشین ٹھیک کرنے کا کام سونپا جائے۔

حسن بخشی: اگر دنیا بھر میں تعمیراتی جدت کی مثال دی جائے تو ہمارے تعمیراتی منصوبوں کی کوالٹی بہترین ہے لیکن ڈیلیوری میں ہم بہت پیچھے ہیں، دنیا بھر میں اسٹیل کا متبادل استعمال کیا جارہا ہے۔ دنیا بھر میں بجلی اور گیس سستی جبکہ پاکستان میں مہنگی ترین ہے۔ ہمیں سولر ٹیکنالوجی کی طرف جانا ہوگا۔ دنیا سیوریج کے پانی کو دوبارہ استعمال کرنے کی ٹیکنالوجی اپنا چکی ہے۔ آباد گرین بلڈنگ ٹیکنالوجی اپنانی ہوگی۔

” آباد موجودہ حکومت کو آٹھ تجاویز کے ساتھ ایس او ایس دے چکا ہے”

حسن بخشی: آباد حکومت کو آٹھ تجاویز دے چکا ہے ہم منتظر ہیں عوامی مفاد اور تعمیراتی شعبے کی ترقی کے لئے موجودہ حکومت کب عملدرآمد کرتی ہے

حسن بخشی: تعمیراتی شعبےکیلئے حکومت اپروول پراسس کے لئے ون ونڈو آپریشن کا نظام رائج کرے تاکہ طوالت کے مسائل سے بچا جاسکے، فکس انکم ٹیکس لاگو کیا جائے جس سے کرپشن کے در بند ہونگے، قوانین کو شفاف بنایا جائے ، حکومت جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانے اور ان کی صنعت لگانے میں معاونت کرے، آج بلڈر اپنے منصوبوں کے لئے انفارمل سیکٹر سے قرض لیتا ہے جسے چکانے کے لئے اسے بڑے جتن کرنے پڑتے ہیں۔ حکومت اسٹیٹ بینک کے ذریعے کمرشل بینکوں کو پابند کرے کی بلڈز اور فلیٹ یا گھر کے حصول عام آدمی کے لئے معقول شرح اور مدت کے ساتھ قرضے جاری کریں، حکومت کلئیر ٹائٹل آف لینڈکے قوانین وضع کرکے آکشن کرے، حکومت سافٹ وئیر ٹیکنالونی متعارف کرائے تاکہ نقشے منظور کرانے کا عمل صاف اور شفاف ہو۔

حسن بخشی: دس ہزار ارب کی تعمیراتی صنعت ہے جس میں کروڑوں روپے کی رشوت کے باعث بڑی رقم حکومتی خزانے میں شامل ہونے سے رہ جاتی ہے۔ بائیس ارب ڈالر کے زر مبادلہ میں نصف رقم رئیل اسٹیٹ میں جارہی ہے۔ وزیر اعظم سے اپیل کرتےہیں کہ تعمیراتی صنعت کے مسائل فوری حل کریں۔ اگر اس صنعت کی معاونت کی گئی تو یہ صنعت ملک کو معاشی بحران سے نکال لے گی ۔جس محکمے کی ناکامی ہے اسے سزا دی جائے ناکہ لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کرنے والی صنعت پر سزا کی تلوار لٹکائی جائے۔ واٹر بورڈ کو پرائیوٹائز کرنے سے شہرمیں پانی کا مسئلہ حل ہوجائے گا۔ ٹینکر مافیا اس شہر پر راج کررہی ۔ شہر میں 500 ملیئن ڈالر کی ٹینکر مافیا انڈسٹری ہے۔

حسن بخشی: میں وزیر اعظم، چیف جسٹس، سندھ کے چیف منسٹرکو ایس اوایس کال دے رہا ہوں ۔ تعمیراتی شعبے سے جڑے لاکھوں افراد کے مستقبل کو بچانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ پانی اور پیسہ اپنا راستہ خود بناتا ہے۔ اگر ایک بار سرمایہ کاری نے متبادل راستے اختیار کرلیئے تو تعمیراتی صنعت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ سوچ سے نہیں بلکہ عمل درآمد سے تبدیلی آئے گی۔

ٹیگس

Zubair Yaqoob

The author has diversified experience in business reporting. He is senior editor at www.pkrevenue.com. He can be reached at [email protected]

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Alert: Content is protected !!
Close